مرکزی مواد پر جائیں

اداریاتی شمارہ

میثاق جرنل اعتماد، خاندان اور سوچے سمجھے فیصلوں کی اشاعت

اداریاتی شمارہ · اسلامی نقطۂ نظر

ایک والد کی سوچ: کبھی بچے کی حفاظت کا مطلب اس کی ناں قبول کرنا بھی ہے

فرحان صاحب کو رشتہ بہت اچھا لگا۔ خاندان جانا پہچانا تھا، لڑکا career میں اچھا کر رہا تھا، اور جس سے پوچھا سب نے اچھی بات کی۔ پھر بھی ان کی بیٹی نے کہا کہ وہ آگے نہیں بڑھنا چاہتی۔

ایک والد کی سوچ: کبھی بچے کی حفاظت کا مطلب اس کی ناں قبول کرنا بھی ہے

فرحان صاحب کو رشتہ بہت اچھا لگا۔ خاندان جانا پہچانا تھا، لڑکا career میں اچھا کر رہا تھا، اور جس سے پوچھا سب نے اچھی بات کی۔ پھر بھی ان کی بیٹی نے کہا کہ وہ آگے نہیں بڑھنا چاہتی۔

پہلا reaction frustration تھا۔ بیٹی کے پاس کوئی بہت بڑی complaint نہیں تھی۔ وہ بس اتنا کہہ رہی تھی کہ اسے دل سے comfort نہیں آ رہا۔

یہ نقطۂ نظر ہم سے کیا چاہتا ہے

بعد میں انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے کئی ہفتے یہ verify کرنے میں لگا دیے کہ سامنے والا خاندان suitable ہے یا نہیں، لیکن بہت کم وقت یہ سمجھنے میں لگایا کہ بیٹی خود اس match کے ساتھ کیسا محسوس کرتی ہے۔ Verification نے ان کے سوالوں کے جواب دیے تھے، بیٹی کے نہیں۔

والدین کو کبھی لگ سکتا ہے کہ بچہ غلط فیصلہ کر رہا ہے۔ Advice دینا parenting کا حصہ ہے۔ لیکن شادی کے لیے وہ willingness چاہیے جو reputation، evidence یا بار بار سمجھانے سے بنائی نہیں جا سکتی۔ کبھی protection کا مطلب صاف ناں کو قبول کرنا بھی ہوتا ہے۔