مرکزی مواد پر جائیں

اداریاتی شمارہ

میثاق جرنل اعتماد، خاندان اور سوچے سمجھے فیصلوں کی اشاعت

اداریاتی شمارہ · اسلامی نقطۂ نظر

ایک ماں کی نظر سے: بچے کو بڑا کرنا یہ بھی سکھاتا ہے کہ کب پیچھے ہٹنا ہے

ایک ماں پچیس سال تک بچے کے لیے کتنے فیصلے کرتی ہے: school، doctor، routine، safety، کبھی دوستوں تک۔ پھر شادی کا وقت آتا ہے اور اچانک اسی بچے سے کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ خود کرے۔

ایک ماں کی نظر سے: بچے کو بڑا کرنا یہ بھی سکھاتا ہے کہ کب پیچھے ہٹنا ہے

ایک ماں پچیس سال تک بچے کے لیے کتنے فیصلے کرتی ہے: school، doctor، routine، safety، کبھی دوستوں تک۔ پھر شادی کا وقت آتا ہے اور اچانک اسی بچے سے کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ خود کرے۔

ماں کے لیے پیچھے ہٹنا آسان نہیں۔ اسے شاید وہ باتیں نظر آ رہی ہوں جو بچے کو نہ نظر آئیں۔ اس کے اپنے تجربے اور ڈر بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ سب useful ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ صرف instructions follow کرے۔

یہ نقطۂ نظر ہم سے کیا چاہتا ہے

ایک ماں نے بہت خوبصورت بات کہی: “میں وہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں جو میری بیٹی شاید بھول جائے، لیکن جواب اس کی طرف سے نہیں دینا چاہتی۔” شاید یہی اچھا balance ہے۔

شادی کے بعد parenting ختم نہیں ہوتی، بس اس کی شکل بدلتی ہے۔ کبھی محبت protection ہے، کبھی advice، اور کبھی اپنے بڑے بچے کو فیصلہ کرنے کی جگہ دینا۔