مرکزی مواد پر جائیں

اداریاتی شمارہ

میثاق جرنل اعتماد، خاندان اور سوچے سمجھے فیصلوں کی اشاعت

اداریاتی شمارہ · ثقافت اور روایات

دوسری شادی کو کم درجے کی شادی نہ سمجھیں

طلاق یافتہ یا بیوہ/رنڈواہ افراد جب دوبارہ رشتہ دیکھتے ہیں تو اکثر ایک extra burden ساتھ لے کر آتے ہیں۔ لوگ انہیں جاننے سے پہلے ہی ان سے پوری زندگی کی صفائی مانگنے لگتے ہیں۔

طلاق یافتہ یا بیوہ/رنڈواہ افراد جب دوبارہ رشتہ دیکھتے ہیں تو اکثر ایک extra burden ساتھ لے کر آتے ہیں۔ لوگ انہیں جاننے سے پہلے ہی ان سے پوری زندگی کی صفائی مانگنے لگتے ہیں۔

پہلی شادی relevant information ضرور ہے، لیکن وہ پورے انسان کی identity نہیں ہونی چاہیے۔ اصل سوال آج کے بارے میں ہیں۔ کیا سیکھا؟ اب کیا responsibilities ہیں؟ بچے ہیں؟ آگے کی زندگی کے بارے میں کیا چاہتا یا چاہتی ہے؟ کیا حالات سب کو صاف بتائے جا رہے ہیں؟

رسم اور روایت سے آگے

خاندان کو proper verification کرنی چاہیے، جیسے کسی بھی serious proposal میں کرنی چاہیے۔ لیکن curiosity، gossip اور judgment verification نہیں ہوتے۔

پختہ معاشرہ ان لوگوں کے لیے بھی جگہ رکھتا ہے جن کی زندگی پہلی planning کے مطابق نہیں چلی۔ دوسری chance دینا کسی پر احسان نہیں۔ یہ صرف ماننا ہے کہ زندگی میں loss، change اور learning ہوتی ہے، اور اس کے بعد بھی اچھی شادی بن سکتی ہے۔