ثنا کی امی نے کبھی آواز اونچی نہیں کی۔ نہ کوئی دھمکی دی، نہ سختی۔ وہ بس بار بار یہی کہتی رہیں، “ہم تو تمہاری بھلائی چاہتے ہیں، اتنا اچھا خاندان ہے۔” جب بھی ثنا کہتی کہ وہ ابھی مطمئن نہیں، تو رشتے کی ایک اور اچھی بات سامنے آ جاتی۔
دباؤ ہمیشہ زبردستی جیسا نظر نہیں آتا۔ کبھی وہ بار بار سمجھانے، ناراضی، خاموشی، emotional distance یا اس احساس کی شکل میں ہوتا ہے کہ اگر میں ناں کہوں گی تو پورا گھر hurt ہو جائے گا۔
دباؤ کے بغیر ساتھ دینا
والدین کا اپنے بچے کو غلط فیصلے سے بچانا بالکل فطری ہے۔ لیکن ایک سادہ test ہے: کیا آپ کا بیٹا یا بیٹی آپ سے اختلاف کر سکتا ہے بغیر اس ڈر کے کہ گھر کا ماحول خراب ہو جائے گا؟ کیا وہ کہہ سکتا ہے “میں یہ رشتہ آگے نہیں بڑھانا چاہتا/چاہتی” اور پھر بھی عزت محسوس کرے؟
والدین کو ہر فیصلے سے agree کرنا ضروری نہیں۔ سوال کریں، اپنی فکر بتائیں، دوبارہ سوچنے کو کہیں۔ لیکن گفتگو کے آخر میں امیدوار کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی ناں واقعی ناں ہے۔



