مرکزی مواد پر جائیں

اداریاتی شمارہ

میثاق جرنل اعتماد، خاندان اور سوچے سمجھے فیصلوں کی اشاعت

اداریاتی شمارہ · گفتگو

“میں ٹھیک ہوں” ہمیشہ بات ختم کرنے کا جواب نہیں ہونا چاہیے

ایک family meeting کے بعد احمد نے مریم سے پوچھا، “کوئی بات بری لگی؟” مریم نے کہا، “نہیں، میں ٹھیک ہوں۔” وہ ٹھیک نہیں تھی۔ ایک رشتہ دار کے joke سے وہ uncomfortable ہوئی تھی، لیکن اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ مشکل مزاج نہ لگے۔ احمد نے سمجھا سب اچھا رہا۔

ایک family meeting کے بعد احمد نے مریم سے پوچھا، “کوئی بات بری لگی؟” مریم نے کہا، “نہیں، میں ٹھیک ہوں۔” وہ ٹھیک نہیں تھی۔ ایک رشتہ دار کے joke سے وہ uncomfortable ہوئی تھی، لیکن اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ مشکل مزاج نہ لگے۔ احمد نے سمجھا سب اچھا رہا۔

چھوٹی غلط فہمیاں تب بڑی ہوتی ہیں جب ہم expect کرتے ہیں کہ سامنے والا خود سمجھ جائے گا۔ اچھی communication کا مطلب ہر وقت بات کرنا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشکل بات بھی بغیر لڑائی کے کہی جا سکے۔

صاف گفتگو کے لیے جگہ بنانا

“میں ٹھیک ہوں” کے بجائے مریم یہ کہہ سکتی تھی: “ایک comment سے مجھے برا لگا۔ میں تمہیں blame نہیں کر رہی، بس چاہتی ہوں تمہیں معلوم ہو۔” احمد کا پہلا کام فوراً اپنے خاندان کو defend کرنا نہیں، پہلے سمجھنا ہونا چاہیے۔

شادی سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں تھوڑی uncomfortable بات بھی کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہر concern argument بن جائے، یا ہر مشکل topic avoid ہو، تو شادی کے بعد communication خود بخود آسان نہیں ہو گی۔