مرکزی مواد پر جائیں

اداریاتی شمارہ

میثاق جرنل اعتماد، خاندان اور سوچے سمجھے فیصلوں کی اشاعت

اداریاتی شمارہ · شادی اور خاندان

شادی کے بعد خاندان ساتھ دیں، شادی چلائیں نہیں

خاندان کا ساتھ شادی کی بہت بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ بیماری میں والدین کی مدد، مشکل وقت میں بہن بھائی کا ساتھ، یا نئے آنے والے کو گھر کا حصہ محسوس کرانا واقعی زندگی آسان کرتا ہے۔

شادی کے بعد خاندان ساتھ دیں، شادی چلائیں نہیں

خاندان کا ساتھ شادی کی بہت بڑی طاقت بن سکتا ہے۔ بیماری میں والدین کی مدد، مشکل وقت میں بہن بھائی کا ساتھ، یا نئے آنے والے کو گھر کا حصہ محسوس کرانا واقعی زندگی آسان کرتا ہے۔

مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب مدد ہر وقت کی نگرانی بن جائے۔ اگر ہر چھوٹی بات فوراً گھر فون کر کے بتائی جائے، ہر خرچے پر خاندان کی approval چاہیے ہو، یا میاں بیوی کی private باتیں سب کے سامنے discuss ہونے لگیں تو couple کو اپنی partnership بنانے کا موقع نہیں ملتا۔

امیدوار کو مرکز میں رکھنا

والدین اس طرح مدد کر سکتے ہیں کہ ضرورت کے وقت موجود ہوں، لیکن ہر بات جاننے کی شرط نہ رکھیں۔ Couple بھی ہر argument کے بعد اپنے گھر والوں کو referee نہ بنائے۔ کچھ مسئلے واقعی بڑوں کی guidance چاہتے ہیں، لیکن بہت سی عام باتیں husband اور wife کو خود بیٹھ کر حل کرنی ہوتی ہیں۔

اچھی شادی کے لیے خاندان سے دور ہونا ضروری نہیں۔ بس ایسی boundaries ضروری ہیں جو نئے رشتے کو جگہ دیں اور دونوں خاندانوں کی عزت بھی قائم رکھیں۔ مقصد فاصلے نہیں، balance ہے۔